ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کی تقریر ایوان کی کارروائی کا حصہ ہے جس پر توفیق آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔

 جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا قومی اسمبلی کے سپیکر نے وزیراعظم کو تقریر کرنے کی اجازت دی تھی جس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اجازت تو ضرور دی تھی لیکن قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے کی کارروائی نہیں تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اگر وزیراعظم نے ذاتی وضاحت کرنی تھی تو اس کا ایجنڈے میں ہونا ضروری تھا۔‘

توفیق آصف نے کہا کہ وزیراعظم کو ذاتی وضاحت کے لیے پرائیویٹ ممبر ڈے کا انتخاب کرنا چاہیے تھا جو منگل کا روز ہے جبکہ وزیراعظم نے پیر کے روز تقریر کی تھی۔

بینچ میں شامل جسٹس گلزار نے جماعت اسلامی کے وکیل سے پوچھا کہ کیا وزیراعظم کی تقریر پر کسی نے اعتراض کیا تھا۔ آصف توفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد ایوان میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ایوان سے واک آوٹ کیا تھا۔

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایوان میں تقریر کی جو ایوان کی کارروائی کا حصہ ضرور ہے لیکن اس تقریر کو آئینی استحقاق حاصل نہیں ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سے وزیراعظم کی تقریر کا متن منگوایا جائے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تقریر کا متن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنی درخواست کے ساتھ دی ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے جس پر توفیق آصف کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے کوئی غلطی رہ گئی ہو۔

عدالت نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ وہ اس بارے میں نئے دلائل دیں اور عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اُن دلائل کو بار بار دھرا رہے ہیں جن کا ذکر وہ خود متعدد بار کرچکے ہیں۔

جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپنے خاندان کے کاروبار کا دفاع کیا اور جب عدالت میں آئے تو اُنھوں نے اپنا اور اپنے بچوں کے لیے الگ الگ وکیل کرلیے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں لندن میں خریدے گئے فلیٹس اور منی ٹریل کا ذکر نہیں کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا تھا کہ چونکہ لندن فلیٹس وزیراعظم کی مملکیت نہیں ہیں اس لیے اُنھوں نے نہ تو عدالت میں منی ٹریل کا ذکر کیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ثبوت پیش کیے، محض قانونی نکات کے انبار لگا دیے۔

ان درخواستوں کی سماعت منگل کے روز بھی جاری رہے گی اور سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے وکیل کو اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

Advertisements